Showing posts with label Urdu Poetry. Show all posts
Showing posts with label Urdu Poetry. Show all posts

میں اِن ہواؤں کا ہمسفر ہوں

Written By Happy Prince on Saturday, 30 July 2011 | 14:29



میں اِن ہواؤں کا ہمسفر ہوں


میں اِن ہواؤں کا ہمسفر ہوں
مجھے جانا ہے بہت دُو ر تک

میرا مشورہ ہے تجھ کو میرا ہمسفر نہ بن
میں ہوں بے نوا مسافر میرا ٹھکانہ نہیں دُور تک

تمہارے قدم کہیں تھک ہی نہ جا ئیں ر استے میں
میرے راستے پُر خار ہیں اِن پہ چلنا ہے بہت دُور تک

میں تو عادی ہوں کٹھن سفر کا میرا مشغلہ یہی ہے
تُو ہے نازک مزاج مشکل ہے چلنا تیرا دُور تک

تُو کِسی اور کی راہبری میں تلاش کر منز ل کو
میری منزل بہت دُور ہے مجھے جانا ہے بہت دُو ر تک

14:29 | 0 comments | Read More

اب تو لوٹ آؤ دوست

Written By Happy Prince on Tuesday, 19 July 2011 | 23:50



اب تو لوٹ آؤ دوست


اب تو لوٹ آؤ دوست
اے دوست میں اب بھی تیرا منتظر ہوں
کتنی برساتیں ائی بادل گرجے
میرے آنسووں کی جگہ
اپنی خاکِ رہ سے پوچھ میں اسے ذرا ذرا ازبر ہوں
کتنی راتیں بیت گئی
تجھے سوچتے سوچتے
ترے خواب دیکھتے دیکھتے
تجھے ڈھونڈ تے ڈھونڈتے
تو نے پوچھا ہے فلک پہ چمکتے تاروں سے
کس شام مری پلکوں پہ ستارے نہیں سجے
چاند سے پوچھنا،
کہ اس کے ساتھ جاگ جاگ کے
ویراں ہوچکا میں
میرے جذبات دھول ہو چکے
میرے خواب اجڑ چکے
کتنی شامیں میں نے ہاتھ کی انگلی سے
تیرا نام آسماں پہ لکھنے گزاری ہیں
ان ہواؤں سے پوچھنا
کس حوصلے سے میں نے
اس آنکھوں کے سمندر کو تھام رکھا ہے
کتنے موسم مرے آنگن میں اکیلے اترے
اور تیرا پوچھتے پوچھتے گزر گئے
کتنے جگنو تجھے دیکھنے کو میری چھت پہ ٹھہرے ہوئے ہیں
کتنی تتلیاں تیری رہ میں
اپنے پروں کی چمک سجائے کھڑی ہیں
اور میں !
کتنے دنوں سے اکیلا اور اداس ہوں
اب تو لوٹ آؤ دوست
میں اب بھی تیرا منتظر ہوں

23:50 | 0 comments | Read More

Written By Happy Prince on Sunday, 10 July 2011 | 09:24



کچھ لوگ زمانے میں ایسے بھی ملا کرتے ہیں


کچھ لوگ زمانے میں ایسے بھی ملا کرتے ہیں
وقتِ کٹھن میں سایہ جو بنا کرتے ہیں

دیتے ہیں نفرت کے بدلے محبتوں کے ثمر
جہدِ مسلسل میں حوصلہ بھی دیا کرتے ہیں

جب کہیں ٹوٹ کر بکھرنے کا ہو مقام
ہاتھ رکھ کر کاندھے پہ مسکرا دیا کرتے ہیں

اِن سے ہی قائم ہیں دنیا کی رونقیں ساجد
ہر شخص کو اِک رُوپ میں یہ لوگ ملا کرتے ہیں


09:24 | 0 comments | Read More

اتنا کیوں پریشان ہے میری دیوانگی سے تو

Written By Happy Prince on Monday, 4 July 2011 | 22:11



اتنا کیوں پریشان ہے میری دیوانگی سے تو
جہاں میں اور بھی موجود کتنے ہی دیوانے ہیں

تیری خوشبو ، تیری باتیں، تیرا چہرا، تیری یادیں
چھپانے کو میرے دل میں ہزاروں قید خانے ہیں

اپنا آپ شاید میں وہیں پہ بھول آئی ہوں
جہاں تیرے میرے رستے مخالف سمت جانے ہیں

اس ہراساں دیپ کی مانند ہوں میں جس نے
ہجر کی آندھیوں کے حوصلے بھی آزمانے ہیں

بچھڑ کے تجھ کو بھی اکثر میری یادیں ستائیں گی
میراسم بھی تو تجھ سے جانِ جاں برسوں پرانے ہیں


( نیلم سہیل )

22:11 | 0 comments | Read More

تم سے کچھ نہیں کہنا

Written By Happy Prince on Sunday, 19 June 2011 | 12:53







ہم نے سوچ رکھا ہے
چاہے دل کی ہر خواہش
زندگی کی آنکھوں سے اشک بن کے
بہہ جائے
چاہے اب مکینوں پر
گھر کی ساری دیواریں چھت سمیت گر جائیں
اور بے مقدر ہم
اس بدن کے ملبے میں خود ہی کیوں نہ دب جائیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
کیسی نیند تھی اپنی،کیسے خواب تھے اپنے
اور اب گلابوں پر
نیند والی آنکھوں پر
نرم خو سے خوابوں پر
کیوں عذاب ٹوٹے ہیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
گھر گئے ہیں راتوں میں
بے لباس باتوں میں
اس طرح کی راتوں میں
کب چراغ جلتے ہیں،کب عذاب ٹلتے ہیں
اب تو ان عذابوں سے بچ کے بھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں!
جس طرح تمہیں سچ کے لازوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں!

ہم نے سوچ رکھا ہے

تم سے کچھ نہیں کہنا
12:53 | 0 comments | Read More

Garmi-e-Hasarat-e-Nakaam Se Jal Jaate Hain




Garmi-e-hasarat-e-nakaam se jal jaate hain 
Ham charagon ki tarah shaam se jal jaate hain 


Bach nikalate hain agar aatih-e-sayyad se ham 
Sholaa-e-aatish-e-gulafaam se jal jaate hain 


Khudanumaai to nahin shevaa-e-arabaab-e-vafaa
Jin ko jalanaa ho vo aaraaam se jal jaate hain 


Shamaa jis aag main jalatii hai numaaish ke liye 
Ham usii aag main gumanaam se jal jaate hain 


Jab bhii aataa hai meraa naam tere naam ke saath 
Jaane kyun log mere naam se jal jaate hain 


Rabtaa baaham pe hamain kyaa na nahenge dushman 
Aashanaa jab tere paigaam se jal jaataa hai 


Qteel Shifai
12:09 | 0 comments | Read More

ہمارا نام لکھنا اور پھر لکھ کر مٹا دینا



ہمارا نام لکھنا اور پھر لکھ کر مٹا دینا


ہمارا نام لکھنا اور پھر لکھ کر مٹا دینا
مِٹا کر نام پھر تم خاک بھی اسکی اڑا دینا

میں اڑتی خاک کو آنچل میں اپنے باندھ رکھوں گی
تم اپنے ہاتھ کی خوشبو ذرا اس میں بَسا دینا

ہماری فرصتیں دیکھو، فراغت کے پَلوں میں بھی
تمہارے نام کی شطرنج آنکھوں میں بچھا دینا

ہمیں تکلیف دیتے ہیں سب اُس کے فیصلے 
 جو دِل چاہے تو کرنا یاد، مَن چاہے بُھلا دینا


04:28 | 0 comments | Read More

ضروری تو نہیں وہ شخص ہی ساری حقیقت ہو

Written By Happy Prince on Tuesday, 14 June 2011 | 11:18

ضروری تو نہیں وہ شخص ہی ساری حقیقت ہو


ضروری تو نہیں وہ شخص ہی ساری حقیقت ہو
اسے اس شہر میں سب چھوڑ کر مجھ سے محبت ہو

رفاقت کے لیے بے تاب جو رہتا ہے مدت سے
بہت ممکن ہے میری ذات سے اس کو رقابت ہو

میری آنکھوں سے اپنا عکس وہ لے جائے گا فوراً
اسے حاصل اگر اس بات پر تھوڑی سی قدرت ہو

مسلسل خامشی سے بدگمانی دور نہ ہو گی
کہے اِک بار تو مجھ سے اُسے جو بھی شکایت ہو

محبت، خوبصورت دلنشیں احساس ہے لیکن
محبت کی عجب خواہش ہے ہر دل کو اذیت ہو

وہ سب کچھ بھول بھی جاؤ، کہا کل رات جو اس نے
ذرا سی بات پر طوفاں اٹھانا اس کی عادت ہو

اگر کچھ کر گزرنا ہے تو اس کو سوچ کر ٹھانو
کہیں ایسا نہ ہو اپنے کیے پر خود ملامت ہو

مسلسل رنجشیں مابین بڑھتی جا رہی ہیں کیوں
تمہیں شاید نہیں معلوم تم میری ضرورت ہو

میں ساری زندگی تپتے ہوئے صحرا کو دے دونگی
اگر اس ریت کی اس نام سے اک آدھ نسبت ہو

سزا منظور ہے مجھ کو محبت کی مگر پہلے
کوئی جرمِ محبت کا گناہ مجھ پر تو ثابت ہو

بُرا کاذب لکھا مونا چلو میں مان لیتی ہوں
مگر اس شہر کے لوگوں میں کوئی تو صداقت ہو

11:18 | 0 comments | Read More

خود اپنی ذات کو اک پل میں رائیگاں لکھ دوں

Written By Happy Prince on Wednesday, 1 June 2011 | 07:50



خود اپنی ذات کو اک پل میں رائیگاں لکھ دوں


خود اپنی ذات کو اک پل میں رائیگاں لکھ دوں
میں آسماں پہ تِرا نام کہکشاں لکھ دوں

قلم کی نوک سے جو حرف بھی لکھا میں نے
ہر ایک حرف کو مضمون جامع لکھ دوں

عجیب ضد کہ رہوں چپ، کروں بیاں سب کچھ
میں یہ بھی مان لوں ہر شعر کو زباں لکھ دوں

برس نہ پائے گا بادل نئی رفاقت کا
تمہاری یاد اگر اپنا سائبان لکھ دوں

مِری طرح سے محبت کو کون چاہے گا
میں اپنے بعد محبت کو بے اماں لکھ دوں

فلک پہ، چاند ستاروں پہ ہاں لکھا دل پر
تمہارا نام بتاؤ میں اب کہاں لکھ دوں

کبھی کبھار تو مونا یہ جی میں آتا ہے
ہوا ہے کتنا مِری ذات کا زِیاں لکھ دوں


07:50 | 0 comments | Read More

شاعری بھی عجیب دھوکہ ہے

Written By Happy Prince on Sunday, 29 May 2011 | 11:34



شاعری بھی عجیب دھوکہ ہے

شاعری بھی عجیب دھوکہ ہے
اس کو مصرعہ کہا جو سوچا ہے
پھر بھی الفاظ میں بناوٹ ہے
صِدق جذبات میں ملاوٹ ہے

دِل کا سارا غُبار لکھ کر بھی
اُن کو دِلدار، یار لکھ کر بھی
سوچتی ہوں نہ کوئی پہنچانے
دِل کا اِک راز کوئی نہ جانے

میں نے لفظوں کا کھیل کھیلا ہے
ہجر کا دکھ اکیلے جھیلا ہے
تپتے صحرا کی راکھ پر چل کر
انکی یادوں میں رات دِن جل کر

خون دل سے سجائے ہیں مصرعے
تب کہیں اُن کو بھائے ہیں مصرعے


11:34 | 0 comments | Read More