Dilwale (1994) - Full Movie - Watch Online Indian Movie

Written By Happy Prince on Monday, 25 July 2011 | 11:20



Status
Released
Color
C
Release Date
February 4, 1994
Language
Hindi
Director
Harry Baweja
Star Cast
Ajay Devgn...... Arun Saxena
Suniel Shetty...... Inspector Vikram
Raveena Tandon...... Sapna
Paresh Rawal...... Mama Thakur
Pramod Moutho
Saeed Jaffrey
Reema Lagoo...... Arun's mother
Navneet Nishan...... Jyoti
A K Hangal
Gulshan Grover...... Shankar Bihar
Cassettes and CD's on
Venus Records & Tapes
Cinematography
Damodar Naidu
Editor
Kuldeep Mehan
Publicity Designs
Studio Link
Story / Writer
Karan Razdan

11:20 | 0 comments | Read More

کمروں میں خراٹے جذب کرنے والے آلات متعارف

Written By Happy Prince on Saturday, 23 July 2011 | 01:52



یورپ میں پہلی بار کرائون پلازہ ہوٹل نے کمروں میں خراٹے جذب کرنے والے آلات نصب کر دیے یہ آلات 10 ہوٹلوں میں نصب کیے گئے ہیں

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اب ہوٹلوں میں مہمان پر سکون نیند کا مزہ لے سکیں گے یہ آلات کمرے کی دیواروں خراٹے جذب کرنے والے تکیوں میں شامل ہیں جن سے خراٹے لینے والے افراد کے قریب سونے والے افراد کی نیند خراب نہیں ہو گی.

01:52 | 0 comments | Read More

ییلو کیب سکیم،’شفاف نہ ہوئی تو تباہ کن‘

Written By Happy Prince on Wednesday, 20 July 2011 | 09:49



اکستان میں اقتصادی ماہرین نے حکومت پنجاب کی نئی یلو کیب سکیم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس میں شفافیت نہ رکھی گئی تو یہ بھی ماضی کی طرح پاکستان کی معیشت کے لیے تباہ کن منصوبہ ثابت ہوگا۔

پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ نون نے حال ہی میں پیلی ٹیکسی سکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نوے کی دہائی میں بھی مسلم لیگ نون نے اپنی پہلے دور حکومت میں اسی طرح کا منصوبہ شروع کیا تھا جس سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا تھا۔

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ سکیم اچھی ہے لیکن سب سے پہلے حکومت یہ تحقیق کروائے کہ کس شہر میں کتنی ٹیکسیوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سکیم کی کامیابی تب ہی ممکن ہوگی جب حکومت میرٹ پر شفاف انداز میں مستحق افراد میں یہ گاڑیاں تقسیم کرے۔ ’اگر ماضی کی طرح سیاسی بنیاد پر گاڑیاں تقسیم ہوئیں تو مقصد پورا نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے تجویز کیا کہ تمام بینک اس سکیم کو میرٹ پر فنڈ کریں اور قرضہ جاری کرنے کا کام صرف پنجاب بینک پر نہ چھوڑا جائے۔ ان کے مطابق اس سکیم کے لیے پنجاب حکومت جزوی طور پر گارنٹی فراہم کرے اور اگر کلی طور گارنٹی دی گئی تو صوبے کے لیے مشکل پیدا ہوسکتی ہے۔

اسلام آباد میں اعجاز مہر کے مطابق سابق وزیر خزانہ نے بتایا کہ ماضی میں سیاسی بنیاد پر جب پیلی ٹیکسی سکیم شروع ہوئی تو اس وقت قسطیں وصول کرنے کا بینکوں کو کوئی تجربہ تھا اور نہ لوگوں نے پیسے واپس کیے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ماضی میں اس سکیم میں ڈوبی ہوئی رقم کا حجم تو یاد نہیں لیکن انہیں اتنا یاد ہے کہ اندازاً چالیس فیصد تک سرمایہ ڈوب گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نصف آبادی والے صوبے پنجاب میں چھوٹی سوزوکی گاڑیاں بیس ہزار پڑھے لکھے بے روزگار افراد کو دینے کے لیے جو سکیم شروع کی جا رہی ہے وہ شفاف ہونی چاہیے۔

اقتصادی امور کے تجزیہ کار شاہد الرحمٰن کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے ’بینظیر انکم سپورٹ سکیم‘ کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) ’پیلی ٹیکسی سکیم‘ متعارف کروا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں سکیمیں سیاسی نوعیت کی ہیں لیکن اچھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیلی ٹیکسی سکیم کی طرح اب بھی اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ پنجاب حکومت کی سکیم میں سیاسی بنیادوں پر گاڑیاں دی جائیں گی اور کافی بے قاعدگیاں بھی ہوسکتی ہیں۔

لیکن انہوں نے کہا کہ وہ اس کے باوجود بھی پنجاب حکومت کی سکیم کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ اس میں پڑھے لکھے بے روزگاروں کو بنا گارنٹی کے بینک سے قرضہ ملے گا۔

’ماضی میں پنجاب بینک نے بڑے لوگوں کو بھاری قرضے دیے اور بینک کی مالی حالت خراب ہوئی۔ لیکن اب اگر بیس ہزار لوگوں کو پچاس ارب ملتے ہیں اور بینک ڈوبتا ہے تو بھی اس میں کوئی برائی نہیں۔‘

صحافی شاہد الرحمٰن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت روزانہ دو ارب روپے قرضہ لے رہی ہے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں خرچ ہوتا ہے اور ایسے میں اگر پچاس ارب روپے بیس ہزار پڑھے لکھے لوگوں میں تقسیم ہوں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

09:49 | 0 comments | Read More

Best of Muhammad Rafi (Top - 10 Sad Songs Collection)


One of the greatest playback singers of India, Mohammed Rafi is considered no less than a genius when it comes to varied styles of music. Born on December 24th, 1924, this great soul had the perfect blend of melody, emotions and energy, which reflected greatly in his songs. Be it the classically inclined songs of Baiju Bawara or the foot tapping songs of Kashmir Ki Kali, Muhammad Rafi gave each song the treatment it deserved. His contribution to the Hindi film industry has been fabulous and perhaps no singer till date has managed to capture the hearts of fans the way Mohamed Rafi has. We capture the fascinating life history of Rafi in this short biography of Mohd. Rafi.









































00:42 | 0 comments | Read More

ہمارا اور ابلیس کا دکھ



ہمارا اور ابلیس کا دکھ


ایک دفعہ کسی بزرگ نے دیکھا کہ بغداد کی دانہ منڈی کے باہر ایک پتھر کے اوپر شیطان بیٹھا رو رہا تھا۔ بزرگ بڑے حیران ہوئے، وہ اس کے قریب گئے اور کہنے لگے کے ابلیس کیا ہے۔۔ تو رو رہا ہے؟

اس نے کہا، جی میرا بہت برا حال ہے ۔ تو انھوں نے کہا نہ بھائی، تو نہ رو، تمھیں تو اتنے کام بگاڑنے ہیں لوگوں کے، اگر تو ہی رونے لگ گیا تو کیا ہو گا؟
اس نے کہا کہ، جی میرا کچھ دکھ ہے۔ بابا جی نے کہا کہ کیا دکھ ہے؟

کہنے لگا، جی میرا دکھ یہ ہے کہ میں اچھا ہونا چاہتا ہوں، وہ مجھ سے ہوا نہیں جاتا۔
تو یہ دکھ تو ہم سب کا ہے، ہم زور تو لگاتے ہیں بڑے کمال کی بات یہ ہے کہ ہم کس لیے اچھے ہونا چاہتے ہیں، ہوا نہیں جاتا؟
چاہیے یہ کہ ہم ہونے کی کوشش تو کریں، خواہش تو کریں کہ ہم اچھے ہو جائیں تو اس سے بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔

ہماری بات تو ہوتی رہتی ہے، گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے لیکن ہم روئے کبھی بھی نہیں۔ ابلیس ہم سے بہتر تھا کہ سچ مچ رو دیا، وہ بازی لے گیا۔



بشکریہ: زین
00:02 | 0 comments | Read More

اب تو لوٹ آؤ دوست

Written By Happy Prince on Tuesday, 19 July 2011 | 23:50



اب تو لوٹ آؤ دوست


اب تو لوٹ آؤ دوست
اے دوست میں اب بھی تیرا منتظر ہوں
کتنی برساتیں ائی بادل گرجے
میرے آنسووں کی جگہ
اپنی خاکِ رہ سے پوچھ میں اسے ذرا ذرا ازبر ہوں
کتنی راتیں بیت گئی
تجھے سوچتے سوچتے
ترے خواب دیکھتے دیکھتے
تجھے ڈھونڈ تے ڈھونڈتے
تو نے پوچھا ہے فلک پہ چمکتے تاروں سے
کس شام مری پلکوں پہ ستارے نہیں سجے
چاند سے پوچھنا،
کہ اس کے ساتھ جاگ جاگ کے
ویراں ہوچکا میں
میرے جذبات دھول ہو چکے
میرے خواب اجڑ چکے
کتنی شامیں میں نے ہاتھ کی انگلی سے
تیرا نام آسماں پہ لکھنے گزاری ہیں
ان ہواؤں سے پوچھنا
کس حوصلے سے میں نے
اس آنکھوں کے سمندر کو تھام رکھا ہے
کتنے موسم مرے آنگن میں اکیلے اترے
اور تیرا پوچھتے پوچھتے گزر گئے
کتنے جگنو تجھے دیکھنے کو میری چھت پہ ٹھہرے ہوئے ہیں
کتنی تتلیاں تیری رہ میں
اپنے پروں کی چمک سجائے کھڑی ہیں
اور میں !
کتنے دنوں سے اکیلا اور اداس ہوں
اب تو لوٹ آؤ دوست
میں اب بھی تیرا منتظر ہوں

23:50 | 0 comments | Read More

Download 360 Web Browser Lite for iPhone, iPod Touch & iPad

Written By Happy Prince on Sunday, 10 July 2011 | 23:13



Digital Poke has released the updated version 3.0.1 of their 360 Web Browser Lite for iPhone, iPod Touch and iPad which is available free for download with incredible features like non-monotonous interface, Firefox Sync, Download Manager, Media Player & Dropbox.


  • 360 Web Browser Lite Features:
  • Intelligent tabbing
  • Multi Touch Gestures
  • Plug-ins and be social with on Twitter, Facebook, Digg, Wave & more in a single Tap
  • Remember Passwords
  • Smart Search
  • History and bookmarks
  • Custom Cache
  • Search Suggest and many more

You can download 360 Web Browser Lite for iPhone and iPad through iTunes link.
23:13 | 0 comments | Read More


کچھ لوگ زمانے میں ایسے بھی ملا کرتے ہیں


کچھ لوگ زمانے میں ایسے بھی ملا کرتے ہیں
وقتِ کٹھن میں سایہ جو بنا کرتے ہیں

دیتے ہیں نفرت کے بدلے محبتوں کے ثمر
جہدِ مسلسل میں حوصلہ بھی دیا کرتے ہیں

جب کہیں ٹوٹ کر بکھرنے کا ہو مقام
ہاتھ رکھ کر کاندھے پہ مسکرا دیا کرتے ہیں

اِن سے ہی قائم ہیں دنیا کی رونقیں ساجد
ہر شخص کو اِک رُوپ میں یہ لوگ ملا کرتے ہیں


09:24 | 0 comments | Read More

شوہر کو سوٹ کیس میں فرار کرانے کی کوشش


میکسکیو میں ایک خاتون کو اس وقت پکڑ کر لیا گیا جب وہ اپنے شوہر کو ایک سوٹ کیس میں چھپا کر جیل سے فرار کروا رہی تھی۔

انیس سالہ ماریہ ڈیل مار ارجونہ کو گارڈز نے اس وقت روکا جب وہ انتہائی گھبراہٹ کے ساتھ ایک پہیوں والے بھاری سوٹ کیس کو گھسیٹ رہی تھیں۔

سکیورٹی گارڈ نےجب یہ سوٹ کیس کھولا تو دیکھا کے اس کے اندر اس خاتون کا شوہر ایڈون والڈیمر ارٹیاگا پیریز تھا۔ اس نے صرف پاجامہ اور جرابیں پہن رکھی تھیں۔

اس شخص کو گذشتہ ہفتے ہی جیل توڑنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد دوبارہ قید کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق یہ خاتون ماریہ ارجونا جیل میں اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی ملاقات کےلئےگئی تھی اور اسی مقصد کے لئے انہیں اپنے ساتھ سوٹ کیس لے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

اس خاتون کو صرف اس وقت روکا گیا جب وہ جیل کی عمارت کا بیرونی مرکزی دروازہ عبور کر رہی تھیں۔

اس کا شوہر جو مختلف جرائم کے الزام میں بیس سال کی قید کاٹ رہا ہے ایک سوٹ کیس میں ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھا ہو تھا۔

حکام کے مطابق ماریہ ارجونہ جو کہ حاملہ ہیں انہیں بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

09:08 | 0 comments | Read More

بھائی والی کا رشتہ

Written By Happy Prince on Saturday, 9 July 2011 | 12:40



آج سے کئی ہفتے قبل میں نے اپنے بابا جی نور والے کا ایک واقعہ بیان کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تو نے رکشہ والے کو کون سے پلےسے پیسے دیۓ تھے۔ وہ “دتے" میں سے ہی تو دیۓ تھے“اگر سوا چار روپے بنتے تھے تو پورے پانچ روپے ہی دے دیۓ ہوتے۔ ڈیرے پر جانے سے ہمارے دوست ابنِ انشاء بڑے ناراض ہوتے تھے۔ انہوں نے مجھے ناراض ہو کر کہا کہ “تو وہاں کیا کرنے جاتا ہے؟ یہ ڈیرے فضول جگہیں ہیں“ لوگ وہاں بیٹھ کے روٹیاں کھاتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں اور پھر اٹھ کر چلے آتے ہیں انہیں وہاں سے کیا ملتا ہے؟ میں نے رکشہ والا واقعہ ابن انشاء کو بھی سنایا اور اس نے اپنے ذہن کے نہاں خانے میں یہ واقعہ ایسے نوٹ کر لیا کہ مجھے اس دن کے واقعہ سے وہ کچھ نہیں ملا جو اس نے حاصل کر لیا اور پھر وہ “دتے" میں سے دیتا رہا اور ابنِ انشاء کی زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آیا کہ وہ دے دے کر تنگ آگیا اور اس نے کہا کہ اب میں کسی کو ٹکا تو دور کی بات ٹکنی بھی نہیں دیتا کیونکہ اس طرح دتے میں سے دینے سے میرے پاس اتنے پیسے آنے شروع ہو گۓ ہیں کہ میں پیسے جمع کرانے کے لیے بینک کی سلیپیں بھی نہیں بھر سکتا (وہ بھی ہماری طرح سست آدمی تھا) اس نے کہا کہ میرے پاس اتنے پیسے آنے لگے کہ میرے لیے انہیں سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ ہمارے سارے ہی بابے ایسی باتیں سمجھاتے رہتے ہیں۔ جب ہم اپنے بابا جی کے پاس ڈیرے پر جاتے ہیں تو وہاں ایک چھوٹی سی رسم ہوتی ہے جس میں بابا جی ایک شخص کو دوسرے شخص کا شراکت دار یا شریک بھائی بنا دیتے ہیں جیسا کہ مدینہ شریف میں ہوا تھا۔ وہ بھی اسی واقعہ کی نقل کرتے ہوۓ یا اس کی پیروی کرتے ہوۓ ایک شخص کو کہتے ہیں کہ اب سے فلاں شخص تمھارا شریک بھائی ہے۔ کئی دفعہ وہ شریک بھائی پسند آتا ہے اور بعض اوقات پسند نہیں آتا لیکن بابا جی کے حکم کی پیروی کرتے ہوۓ با امر مجبوری شریک بھائی کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ میں نے زندگی میں یہ بات محسوس کی ہے کہ نہ صرف انسانی زندگی شیئرنگ میں مصروف ہے بلکہ شجر حجر پہاڑ پتھر دریا بھی اس کائنات میں ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کرتے ہوۓ چلتے ہیں۔ شراکت کسی کو کچھ دینے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ کسی کو پیسے یا مثال کے طور پر دس لاکھ کا چیک دے کر آپ تو آزاد ہو جاتے ہیں لیکن ایک آدمی کے ساتھ شئیر کرنا مشکل ہے۔ بہو کا اپنی ساس کے ساتھ شیئر کرنا یا شوہر کا بیوی کے ساتھ شئیرنگ کی زندگی زیادہ کٹھن کام ہے۔ یہ باتیں ہمیں بابے لوگ ہی بتاتے تھے۔ ہمیں یہ باتیں کہیں کتابوں میں تو نظر نہیں آئیں۔ باباجی فرمایا کرتے تھے کہ درخت بھی ہمارے ساتھ شیئر کرتے ہیں اور درختوں کو بھی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ “میں مسمی درخت پیپل اشفاق احمد کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ یہ جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑے گا میں اس کو خوشدلی سے قبول کروں گا اور میں اس کے جواب میں اس کے لیے آکسیجن فراہم کرتا رہوں گا۔ چاہے میں کہیں بھی رہوں یہ رشتہ قائم رہے گا۔

اس طرح بڑی بڑی چیزیں سورج چاند بھی شیئر کرنے والے ہیں۔ جب ہم اس وقت سٹوڈیو میں بیٹھے پروگرام کر رہے ہیں ہمارا کے۔ٹو تقریباً ایک کروڑ ٹن برف کی پگڑی باندھ کر ہر وقت شیئرنگ کے لیے مستعد اور تیار ہے اور وہ سورج کو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ دو روشنی کی مزید کرنیں مجھ پر ڈال۔ جھنگ میں پانی کم ہو گیا ہے اور مجھے چناب میں پانی بھیجنا ہے۔ اس نے برف اپنے لیے اکٹھی نہیں کی یہ اس کا اپنا شوق نہیں ہے۔ اس کو تھوڑی زینت کا شوق تو ضرورہے کہ لوگ میرانام لیں اور میرے درشن کرنے کو یہاں آئیں لیکن اس کا باقی تمام کام دوسروں کی خدمت ہے۔ سورج اپنی گرمی کا کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا ہے۔ ایک فلسفی نے بڑا خوبصورت فقرہ لکھا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ “بڑھاپے میں انسان کی کیفیت ایسے ہو جاتی ہے جیسے ڈوبتا ہوا سورج“۔

خواتین و حضرات! ڈوبتے سورج کی روشنی صرف اپنے آپ کو دہکانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ لیکن سارا دن وہ اپنی روشنی دوسروں کو ہی عطا کرتا ہے اور اسے اس کا فائدہ نہیں ہوتا۔ اس طرح ہوائیں بادل سب شیئر کرنا جانتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے۔ ہمارے دوست قدرت اللہ شہاب کی والدہ “ماں جی“ دوپہر کوکھانا کھا کے ایک خاص کونے میں ایک خاص چارپائی پر لیٹ جاتی تھیں اور انہوں نے ہلکا سا ایک کمبل اوڑھا ہوتا تھا۔ اس گھر کی بلی جو اپنا حق جانتی تھی جیسے ہی ماں جی سوتیں وہ بلی بھی چھلانگ لگا کر چارپائی پر چڑھ جاتی تھی اور پھر آہستگی کے ساتھ اپنے دونوں پنجے لگا کر ماں جی کو دھکیلتی تھی کہ مجھے بھی سونے کے لیے جگہ دو۔ وہ بڑا کمال کا سین ہوتا تھا اور اکثر شہاب مجھے کہتے تھے کہ جلدی آؤ، جلدی آؤ ماں جی اور بلی میں مقابلہ ہو رہا ہے اور ماں جی اسے “دفع ہو“ یا ذرا سی کوئی بات کہہ کر اس کے لیے جگہ چھوڑتی جاتی تھیں کیونکہ وہ ایک ایسا رشتہ تھا شراکت کا کہ وہ بلی کو کوستے ہوۓ آگے کھسکتی جاتی تھیں اور بلی اپنی پوری جگہ بنا کر نیم دراز ہو تی جاتی تھی۔ پیارے بچو! جب تک ہم انسانوں کے درمیان شیئرنگ کا رشتہ قائم رہے گا یہ دنیا خوش اسلوبی سے چلتی رہے گی۔ لیکن جب شیئرنگ میں رخنہ پڑنے لگتا ہے جیسا کہ ہمارے ہاں پڑ رہا ہے تو بے زاری بڑھ جاتی ہے اور اس طرح سے آدمیوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کیا جا رہا ہے اور “نکھیڑا“ جا رہا ہے۔ یہ ایک خوفناک صورتِ حال ہے۔ ایک زمانے میں جب میں نے بی۔اے کر لی تو میں نے بھی گھر والوں سے لڑائی کی کیونکہ جب بچہ سیانا ہوجا تا ہے تو وہ گھر والوں سے لڑتا ضرور ہے۔ سیانا ہونے کے بعد وہ سب سے پہلے تھرڈ ائیر میں کمیونسٹ بن جاتا ہے۔ دوسرا وہ گھر والوں سے ضرور لڑتا ہے۔ میں بھی کچھ ایسے ہی ناراض ہو کر گوجر خان چلا گیا۔ یہ میں آپ کو خفیہ بات بتا رہا ہوں۔ وہاں جا کر میں سکول ماسٹر لگ گیا۔ وہاں ایک بڑے اچھے آدمی ہوتے تھے ان کا تھوڑا سا تصوف کے ساتھ بھی لگاؤ تھا۔ ہم شام کو ان کی بیٹھک میں بیٹھتے تھے ۔ وہاں اور بھی بہت سے لوگ آتے تھے اور باتیں بھی ہوتی تھیں۔ وہاں ایک آدمی نابی کمہار بھی آتا تھا۔ تھا تو وہ کمہار لیکن کوزہ گر کو خدا نے بڑی صلاحتیوں سے نوازا ہوتا ہے۔ اس کی سوچ بڑی عجیب ہوتی تھی۔ وہ ایک روز وہاں آیا اور مجھ سے پوچھنے لگا کہ صاحب جی، یہ جو زمین ہے اس کا وزن کتنا ہے؟اس کا کام مٹی کا تھا تو ظاہر ہے اس کی دل چسپی مٹی میں زیادہ ہونی تھی۔ میں جسے اپنے علم پر بڑا ناز تھا، میں نے کہا کہ زمین کے بوجھ کے بارے میں تو میں نہیں جانتا لیکن میں تمہیں کہیں سے دیکھ کر ضرور بتاؤں گا۔ میں نے سکول کی لائبریری سے انفارمیشن اور معلومات کی کتابیں نکال نکول اور جوڑ جاڑ کے دیکھا اور اس سے کہا کہ بھئی دیکھو زمین کا وزن سائنس کی رو سے اتنے ہزار اتنے لاکھ، اتنے کروڑ ٹن ہے۔اسے ٹن کےبارے میں بھی بتایا کہ ایک ٹن 28 من کا ہوتا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے طرف سے اس قدر مشکل سوال حل کر دیۓ جانے کے باوجود بھی وہ مطمئن نہیں ہو رہا تھا۔ وہ مجھ سے پھر گویا ہوا اور اس نے مجھ سے یہ بات پوچھ کر مجھے حیران کر دیا کہ

“جی ایہہ وزن بندیاں سمیت اے کہ بندیوں بگیر“

اس وقت تو میں اس کی اس بات پر چڑا بھی کہ یہ کیسی بات کر رہا ہے لیکن آج میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہر چیز کی بندے کے ساتھ شراکت ہے۔ جب ہم سڑک پر گاڑی چلاتے ہیں تو دوسروں کو یکسر بھلا دیتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ بس ہم ہی ہیں۔ میرا بھی یہی حال ہے۔ میں بھی کہتا ہوں کہ بس میں ہی ہوں اور “گلیاں ہون سنجیاں تے بس میرا مرزا یار پھرے“میں سمجھتا ہوں کہ مجھے کیا پروا ہے کہ میں لین کے اندر چلوں یا سڑک کو شیئر کروں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں شیئر کرنے کا رحجان ختم ہو چکا ہے اور جس قوم یا گروۂ انسانی میں شیئرنگ کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے وہ سوسائٹی غرق ہونے لگتی ہے۔ ڈوبنے لگتی ہے۔ ہم شیئرنگ کے بغیر نہیں چل سکتے۔ اللہ تعالٰی نے اس کا نظام ہی ایسا بنایا ہے۔ آج سے تین چار سال پہلے میں امریکہ گیا۔ میرا بیٹا وہاں پروفیسر ہے۔ ہم اس کی یونیورسٹی سے واپس آرہے تھے تو ہماری گاڑی سے آگے ایک اور گاڑی جار رہی تھی۔ سڑک بالکل سنسان تھی۔ میں نے اپنے بیٹے سے کہاکہ یار اس سے آگے نکلو۔ یہ تو بہت آہستہ جار ہا ہے۔ کہتا اچھا ابو گزرتے ہیں اور وہ آگے نکلنے میں بہانے بازی کر رہا تھا۔ میں نے غصے سے کہا کہ تم اس کو ہارن دو اور اسے ایک طرف کر دو۔ وہ کہنے لگا کہ ابو اسے ہوٹ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ عمر رسیدہ آدمی ہے جو گاڑی چلا رہا ہے۔ اگر میں ہارن دوں گا تو یہ گھبرا جاۓ گا اور کسی نقصان کا اندیشہ ہے۔ میں نے کہا دفع کر یا اگر نقصان ہوتا ہے تو اس کا ہونا ہے ہمیں کیا؟ میرا بیٹا کہنے لگا کہ ابھی موڑ آجاۓ گا تو اس سے آگے نکل جائیں گے اور وہ ویسے یہ آہستہ آہستہ گاڑی چلاتا رہا۔ میں نے اس سے کہا کہ تم میری بات کیوں نہیں مانتے؟ وہ کہنے لگا کہ ابو بات یہ ہے کہ یہ میرا کولیگ ہے۔ میں نے کہا کہ اچھا کیا یہ تمہارے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں۔ میں نے کہا کہ کیا یہ تمہارے ساتھ ایڈمنسٹریشن میں ہے؟ وہ کہنے لگا کہ نہیں۔ میں نے کہا پھر یہ تمہارا ساتھی کیسے ہو گیا؟ وہ کہنے لگا کہ یہ ابو He is my road fellow اور میں اسے گھبرانا پسند نہیں کرتا۔ میں نے کہا کہ لعنت! تمہیں پڑھنےاس لیے بھیجا تھا کہ اس طرح کی فضول باتیں سیکھ لے۔ ادھر لاہور یا کراچی میں آکے گاڑی چلا اور کھٹا کھٹ کسی کے بیچ میں مار۔ یہ تو نے کیا نئی اصطلاح “سڑک کا ساتھی“ بنا رکھی ہے۔ یہ کوئی رشتہ وشتہ نہیں ہے۔

خواتین و حضرات! جب شیئرنگ کی تار ٹوٹتی ہے تو پھر اس قسم کی مشکلات پیدا ہو تی ہیں اور نواب دیں (نابی کمہار) جیسا کمہار پیدا ہوتا ہے تو وہ شیئرنگ کے رشتے کو جوڑتا ہے جیسے کہ وہ مٹی کو جوڑ کر کوزہ بناتا ہے بالکل اسی طرح سے ہے۔

میں عرض کر رہا تھا کہ کسی کو کچھ دے دینا تو بڑا ہی سہل کام ہے۔ شیئر کرنا مشکل کام ہے۔ میاں بیوی کا خاص طور پر شیئرنگ کا بہت عجیب رشتہ ہے۔ نہ بھی پسند ہو تو بھی تعلق رکھنا پڑتاہے۔ قرآن پاک میں بھی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ تم کو اپنی بہت سی بیویاں نا پسند ہوں گی لیکن تم نے ان سے ساتھ رہنا ہے۔ جوڑنے والے اپنی جسمانی یا نفسیاتی تکلیف کے باوجود کیا کچھ حاصل کرتے ہوں گے اس کا اندازہ ہمیں نہیں ہے۔ لیکن ہمارے بابے کہتے ہیں کہ شیئرنگ کرنے سے آپ کو ایک عجیب طرح کی تقویت ملتی ہے۔ ایسی ہی تقویت جو آپ آکسیجن کی صورت میں درخت سے حاصل کرتے ہیں جس سے آپ توانا رہتے ہیں۔ اگر آپ زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں شراکت اور “بھائی والی“ کے اوپر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کے اردگرد کس طرح سے شیئرنگ کا عمل جاری ہے۔ لیکن یہ عمل توجہ دینے سے نظر آتا ہے اور جس وقت اس عمل کو اپنی زندگی میں شامل نہ کر لیا جاۓ مشکل ہو جاۓ گی اور ہم اس مشکل میں سے گذر رہے ہیں اور ساری دنیا اس شیئرنگ سے نکل رہی ہے۔ میرے ایک دوست کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔ اس کا نام صائمہ تھا۔ جب ہم سمن آباد میں رہتے تھے اس کی وہاں شادی ہو گئی پھر وہ سمن آباد سے شادی کے بعد لندن چلی گۓ۔ اس کا خاوند انجینئر تھا۔ وہ لندن سے پھر کینیڈا شفٹ ہو گۓ۔ جب ان کے ماشاء اللہ دو تین خوب صورت سے بچے ہو گۓ تو پھر صائمہ نے کہا کہ ہم کتنی دیر باہر رہیں گے اور اس کے بعد وہ واپس گھر لاہور آۓ۔ پہلے تو وہ پوش ایریاڈیفینس میں رہے پھر گلبرگ آۓ اور آخر کار وہ سمن آباد میں ہی آگۓ حالانکہ یہ علاقہ ان کے مزاج کے مطابق نہیں تھا اور نہ ہی یہ علاقہ ان کے بود و باش کے لیول پر پورا اترتا تھا۔ ایک دن میں اپنے دوست اے حمید سے ملنے کے لیے جا رہا تھا تو وہ مجھے راستے میں مل گئی اور اس نے مجھے بتایا کہ انکل آج کل میں سمن آباد میں ہوں۔ میں نے کہا کہ تم نے علاقہ کیوں نہیں بدلا۔ وہ کہنے لگی کہ انکل ایک تو اس علاقے سے میری بچپن کی یادیں وابستہ ہیں اور یہاں سٹور بھی بڑا نزدیک ہے جو چیز نہیں ہوتی وہ میں جھٹ سے لے آتی ہوں۔ میں نے کہا کہ سمن آباد میں ایسا کون سا اشیاۓ ضروریہ کا سٹور ہے جس سے ہر چیز دستیاب ہے۔ وہ کہنے لگی انکل بہت بڑا ہے اور نہایت اعلٰی درجے کا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے تو نہیں دیکھا۔ کہنے لگی اماں کا گھر میرے گھر کے نزدیک ہی ہے جس چیز کی ضرورت پڑتی ہے وہاں سے جا کے لےآتی ہوں۔ اس سے اچھا سٹور تو مجھے ملا ہی نہیں۔ میں بڑی دیر اس سے باتیں کرتا رہا اور خوش ہوتا رہا۔ شیئرنگ اس طرح سے ہوتی ہے اور اس کی جڑیں کئی طرح سے ملی ہوتی ہیں۔ اب آپ کو ذات کے حوالے سے یہ فیصلہ خود کرنا ہے اور ایسا فیصلہ کرنے کے لیے ایک وقت ضرور مقرر کرنا پڑے گا جس میں آپ اپنے آپ کا احاطہ کریں۔ لوگوں نے مجھ سے مراقبہ کے حوالے سے پوچھا بھی ہےاور میں انشاء اللہ کسی اور پروگرام میں مراقبہ کی تمام اقسام عرض کروں گا اور وہ اقسام اکتسابی طور پر ہی ہوں گی کیونکہ میں خود تو اس کا ماہر نہیں ہوں۔ مراقبہ ایک خود احتسابی کا طریقہ ہی تو ہے۔ وگرنہ انسان لوگوں پر تنقید کرتا ہوا ہی اس جہانِ فانی سے گذر جاتا ہے۔ آپ کو شراکت کی ہلکی ہلکی لہریں نہ صرف اپنے علاقے، گھر یا ملک میں ملیں گی بلکہ آپ جہاں بھی چلے جائیں جہاں بھی انسان آباد ہیں اور جہاں بھی اللہ کے نظارے ہیں وہ نظارے اور فضائیں آپ کو اپنے ساتھ شیئر کرتی ہوئی ہی ملیں گی۔ آپ مری اور بھوربن کیوں جاتے ہین؟ وہ بھوربن آپ کا انتظار کر رہا ہوتا ہے کہ پلیز آجاؤ بڑی دیر ہو گئی ہے۔ میں آپ کے ساتھ کچھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ جب آپ وہاں سے ہو کر آتے ہیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ بھوربن میرے ساتھ کچھ شیئر کر رہا تھا کیونکہ آپ کا وہاں جانے کا پھر دل کرتا ہے۔ شراکت بڑی نعمت ہے جو قدرت کی طرف سے ہمیں عطا ہوتی ہے۔ جب میں اٹلی میں تھا، وہاں ایک اصول ہے کہ ہر سال ڈرائیونگ لائسنس کی جب تجدید کرائی جاتی ہے تو آپ کو ایک بار پھر ڈاکٹر کے حضور بینائی کے ٹیسٹ کرانے کے لیے پیش ہونا پڑتا ہے۔ میں بھی ڈاکٹر کے پاس گیا اور اس نے کہا کہ اوپر کی لائن سے پڑھتے ہوۓ چھٹی لائن تک آؤ۔ آخری لائن بڑی باریک لکھی ہوئی تھی۔ میں نے پانچویں لائن تک تو کھٹا کھٹ پڑھ دیا لیکن جب چھٹی پر آیا تو رک گیا اور میں نے ڈاکٹر سے اطالوی زبان میں کہا کہ یہ مجھ سے نہیں پڑھی جاتی تو ڈاکٹر نے کہاکہ “پاس“۔ یہ پانچ لائن پڑھنے کا حکم ہے۔یہ چھٹی تو میں تمھیں اپنی طرف سے کہہ رہا تھا۔ اب میں اس چھوٹے سے رشتے کو، محبت کے رشتے کو کیا نام دوں۔ لیکن اس نے میرا دل پرباش کر دیا تھا اور اس کی معمولی سی محبت کی بات سے میرا دل خوشی سے بھر گیا تھا۔ مجھے یہ بات محسوس کر کے بھی بری خوشی ہوتی ہے کہ بہت سے لوگوں نے بہت کچھ جانتے ہوۓ اور نہ جانتے ہوۓ بھی ہمارے ساتھ شیئر کیا ہے اور میں نے تو شیئرنگ کے فائدے بہت اٹھاۓ ہیں۔ میں یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس شیئرنگ سے میں نے کسی کو کیا دیا۔ البتہ یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس شیئرنگ کی بدولت بہت کچھ حاصل کیا۔

اللہ تعالٰی آپ سب کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا اور شیئر کرنے کا شرف عطافرماۓ۔ اللہ حافظ

بشکریہ: اردو لائبریری

12:40 | 0 comments | Read More